Author name: Karwan-e-Maoism

ایران۔ انقلاب سے تھیوکریٹک سرمایہ داری تک 

تحریر: احمد خاں ندیم  کسی بھی ریاست کا سائنسی تجزیہ کرنے کے لیے  سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کے  اندرونی طبقاتی مواد کو دیکھا جائے۔ ماؤ نے “تضاد پر” میں واضح کیا تھا کہ ہر معاشرے میں ایک بنیادی تضاد کارفرما ہوتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ کئی ثانوی تضادات بھی متحرک رہتے ہیں، […]

ایران۔ انقلاب سے تھیوکریٹک سرمایہ داری تک  Read More »

کیمونسٹ مینی فیسٹو اور پاکستانی سماج ۔ 

تحریر: احمد خاں ندیم  کمیونسٹ مینی فیسٹو میں لکھا ہے کہ  ہر سماج کی  آج تک کی تمام تحریری تاریخ، طبقاتی جدوجہد کی تاریخ رہی ہے۔ آزاد آدمی اور غلام، پیٹریشین اور پلیبین، جاگیردار اور زرعی غلام، استاد اور شاگرد، مختصر یہ کہ ظالم اور مظلوم ہمیشہ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے رہے ہیں۔ مارکس اور اینگلز

کیمونسٹ مینی فیسٹو اور پاکستانی سماج ۔  Read More »

پنجاب میں تعلیمی اصلاحات

تحریر: احمد خان ندیم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں ریاست کے کردار، عوامی خدمات کی فراہمی اور ترقی کے تصور میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان تبدیلیوں نے صرف معیشت یا انتظامی ڈھانچے کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ تعلیم جیسے بنیادی سماجی شعبے کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا

پنجاب میں تعلیمی اصلاحات Read More »

تحریکوں کی حقیقت اور سازشی فریم

ہمارے سماج میں ایک عمومی مگر خطرناک رجحان یہ ہے کہ ہر وہ تحریک جو ہمارے مخصوص نظریاتی یا جغرافیائی دائرے سے باہر ہو، خواہ وہ کتنی ہی عوامی، انقلابی یا تاریخی محرومیوں پر مبنی ہو، اسے مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ تحریکوں کو رد کرنے کے لیے تین بنیادی الزامات بار بار دہرائے جاتے

تحریکوں کی حقیقت اور سازشی فریم Read More »

چین سوشلسٹ یا  سوشل سامراج؟  کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ماؤاسٹ کی نظر میں

سال 2007 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کی نویں کانگریس، جسے یونٹی کانگریس بھی کہا جاتا ہے، منعقد ہوئی۔ اس کانگریس میں ایک نہایت اہم فیصلہ کیا گیا جو موجودہ عالمی حالات اور انقلابی تحریکوں کے تناظر میں تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ کانگریس میں  اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ چین، جو ماضی میں سوشلسٹ

چین سوشلسٹ یا  سوشل سامراج؟  کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ماؤاسٹ کی نظر میں Read More »

پاک بھارت جنگی کشیدگی: ایک ماؤسٹ تناظر

ہم پاکستانی اور ہندوستانی ریاستوں کو محض دو قومی ریاستیں نہیں بلکہ “امپیریلزم کے مفادات کی خدمت کرنے والی سرمایہ دارانہ حکومتیں” سمجھتے ہیں۔ ان دونوں ریاستوں کی بنیادیں برطانوی نوآبادیاتی ورثے، استعماری طرز حکومت، اور سامراجی معاشی ڈھانچوں پر استوار ہیں۔ آزادی کے بعد بھی حقیقی عوامی اقتدار قائم کرنے کے بجائے، ان ریاستوں

پاک بھارت جنگی کشیدگی: ایک ماؤسٹ تناظر Read More »

ریاستی بیانیہ اور وسائل کی طبقاتی لوٹ مار

پاکستان کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف شدید شکایات موجود ہیں “بلوچستان کے گیس، سونا اور کوئلہ، پنجاب لے جا رہا ہے،اندرون سندھ کی زمینیں، پانی اور محنت، کراچی اور لاہور  کے سرمایہ دار ہڑپ کر رہے ہیں،جنوبی پنجاب محروم ہے کیونکہ تخت لاہور سارا

ریاستی بیانیہ اور وسائل کی طبقاتی لوٹ مار Read More »

سرمایہ دارانہ جدل اور بازاری لیفٹ

سرمایہ داری نے اپنے مادی ٹکراؤ، تاریخی تضادات اور جدلیاتی ارتقا کے ذریعے انسانی سماج کو ایک ایسی مستقل مقابلے کی بھٹی میں جھونک دیا ہے، جہاں ہر انسان دوسرے کے لیے ایک رکاوٹ، ایک حریف، اور اکثر اوقات ایک دشمن بن جاتا ہے۔ یہ نظام محض معیشت یا پیداوار کے طریقۂ کار تک محدود

سرمایہ دارانہ جدل اور بازاری لیفٹ Read More »

سیاست کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟

سیاست محض اقتدار کے ایوانوں یا اسمبلیوں میں موجود نمائندوں کی بحث کا نام نہیں، بلکہ یہ اس پوری سماجی، معاشی، اور نظریاتی جدوجہد کا نام ہے جس کے ذریعے معاشرے میں وسائل، طاقت، قانون، اور سماجی رشتے منظم کیے جاتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ سیاست وہ عمل ہے جس کے ذریعے یہ

سیاست کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ Read More »

Scroll to Top